Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Showing posts with label ساغر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label ساغر صدیقی. Show all posts

ساغر صدیقی : جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں



ساغر صدیقی کی ایک زبردست غزل


جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں
یاد بُھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں

لوگ جس بزم میں آتے ہیں ستارے لے کر
ہم اسی بزم میں بادیدئہ نم آتے ہیں

میں وہ اِک رندِ خرابات ہُوں میخانے میں
میرے سجدے کے لیے ساغرِ جم آتے ہیں

اب مُلاقات میں وہ گرمی جذبات کہاں
اب تو رکھنے وہ محبت کا بھرم آتے ہیں

قُربِ ساقی کی وضاحت تو بڑی مشکل ہے
ایسے لمحے تھے جو تقدیر سے کم آتے ہیں

میں بھی جنت سے نکالا ہُوا اِک بُت ہی تو ہُوں
ذوقِ تخلیق تجھے کیسے ستم آتے ہیں

چشم ساغرؔ ہے عبادت کے تصوّر میں سدا
دل کے کعبے میں خیالوں کے صنم آتے ہیں

Saghar siddiqui.. Ye Jo Deewane se Char Nazar aate hai



ساغر ؔ صدّیقی

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغرؔ
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں