Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Showing posts with label Munawwar rana. Show all posts
Showing posts with label Munawwar rana. Show all posts

Munawwar Rana`s Ghazal | غزلِ منور رانا


جب بھی دیکھا مرے کردار  پہ دھبا کوئی
دیر تک بیٹھ کے تنہائی میں رویا کوئی

لوگ ماضی کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیں
مجھ کو تو یاد نہیں کل کا بھی قصہ کوئی

بے سبب آنکھ میں آنسو نہیں آیا کرتے
آپ سے ہوگا یقیناً  مرا رشتہ کوئی

یاد آنے لگا ایک دوست کا برتاؤ مجھے
ٹوٹ کر گر پڑا جب شاخ سے پتّہ کوئی

بعد میں ساتھ نبھانے کی قسم کھا لینا
دیکھ لو جلتا ہوا پہلے پتنگا کوئی

اس کو کچھ دیر سنا لیتا ہوں رودادِ سفر
راہ میں جب کبھی مل جاتا ہے اپنا کوئی

کیسے سمجھیگا بچھڑنا وہ کسی کا رانا
ٹوٹتے دیکھا نہیں جس نے ستارہ کوئی

Urdu Shairy ..Munawwar rana



منوّر رانا کی حسّاس غزل

ہر ایک آواز اردو کو فریادی بتاتی ہے
یہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے

کئی باتیں محبت سب کو بنیادی بتاتی ہے
جو پر دادی بتاتی تھی وہی دادی بتاتی ہے

جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیں
وہاں چڑیا کا ایک گھونسلہ تھا دادی بتاتی ہے

ابھی تک یہ علاقہ ہے رواداری کے قبضے میں
ابھی فرقہ پرستی کم ہے آبادی بتاتی ہے

یہاں ویرانیوں کی ایک مدت سے حکومت ہے
یہاں سے نفرتیں گذری ہے بربادی بتاتی ہے

لہو کیسے بہایا جائے یہ لیڈر بتاتے ہیں
لہو کا ذائقہ کیسا ہے یہ کھادی بتاتی ہے

غلامی نے ابھی تک ملک کا پیچھا نہیں چھوڑا
ہمیں پھر قید ہونا ہے یہ آزادی بتاتی ہے

غریبی کیوں ہمارے شہر سے باہر نہیں جاتی
امیرِ شہر کے گھر کی ہر ایک شادی بتاتی ہے

میں ان آنکھوں کے میخانے میں تھوڑی دیر بیٹھا تھا
مجھے دنیا نشے کا آج تک عادی بتاتی ہے