Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Showing posts with label Parveen Shakir. Show all posts
Showing posts with label Parveen Shakir. Show all posts

پروین شاکر کی ایک غزل



پروین شاکر کی ایک غزل

چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا

جانے کس دکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتارہا

میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی تھی
اور وہ راستہ بدلتا رہا

رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جا ساتھ چلتا رہا

موسمی بیل تھی مَیں،سوکھ گئی
وہ تناور درخت ،پھلتا رہا

سَرد رُت میں،مسافروں کے لیے
پیڑ، بن کر الاؤ جلتا رہا

دل، مرے تن کا پھول سا بچہ
پتھروں کے نگر میں پلتا رہا

نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا

پروین شاکر کی درد بھری غزل



غزل

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی

بدن کے قرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں دل میں رو ¿ں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گ