Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Showing posts with label Meer Taqi Meer. Show all posts
Showing posts with label Meer Taqi Meer. Show all posts

Urdu Shairy : Meer Taqi Meer



گرچہ کب دیکھتے ہو، پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو یک نظر دیکھو

یوں عرق جلوہ گر ہے اس مونہہ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو

ہر خراشِ جبیں جراحت ہے
ناخنِ شوق کا ہنر دیکھو

تھی ہمیں آرزو لبِ خنداں
سو عوض اس کے چشمِ تر دیکھو

رنگِ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک دن آؤ یاں سحر دیکھو

دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو

پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے
یعنی جاتے ہیں دُور گر دیکھو

لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔ
دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو

Meer Taqi Meer ... aarzuwe hazaar rakhte hai




آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
(مير تقي ميرؔ)

آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
تو بھي ہم دل کو مار رکھتے ہيں

برق کم حوصلہ ہے ہم بھي تو
دل اک بے قرار رکھتے ہيں

غير ہے مورد عنايت، ہائے
ہم بھي تو تم سے پيار رکھتے ہيں

نہ نگہ، نہ پيام، نہ وعدہ
نام کو ہم بھي يار رکھتے ہيں

ہم سے خوش زمزمہ کہاں يوں تو
لب ہ لہجہ ہزار رکھتے ہيں

چھوٹے دل کے ہيں يہ بتاں مشہور
بس يہي اعتبار رکھتے ہيں

پھر بھي کرتے ہيں ميرؔ صاحب عشق
ہيں جواں اختيار رکھتے ہيں