Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Showing posts with label نوشی گیلانی. Show all posts
Showing posts with label نوشی گیلانی. Show all posts

نوشی ؔ گیلانی کی ایک غزل



نوشی ؔ گیلانی کی ایک غزل

محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
بہت آساں نہیں ہوتا جدائی مانگتے رہنا

ذرا سا عشق کر لینا،ذرا سی آنکھ بھر لینا
عوض اِس کے مگر ساری خدائی مانگتے رہنا

کبھی محروم ہونٹوں پر دعا کا حرف رکھ دینا
کبھی وحشت میں اس کی نا رسائی مانگتے رہنا

وفاں کے تسلسل سے محبت روٹھ جاتی ہے
کہانی میں ذرا سی بے وفائی مانگتے رہنا

عجب ہے وحشت ِ جاں بھی کہ عادت ہو گئی دل کی
سکوتِ شام ِ غم سے ہم نوائی مانگتے رہنا

کبھی بچے کا ننھے ہاتھ پر تتلی کے پر رکھنا
کبھی پھر اس کے رنگوں سے رہائی مانگتے رہنا

Noshi Geelani ki ek ghazal



کبھی ہم بھیگتے ہیں۔۔۔۔

نوشیؔ  گیلانی

کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی برسوں نہیں ملتے کسی ہلکی سی رنجش میں

تمہی میں دیوتاؤں کی کوئی خو بو نہ تھی ورنہ
کمی کوئی نہیں تھی میرے اندازِ پرستش میں

یہ سوچ لو پھر اور بھی تنہا نہ ہو جانا
اسے چھونے کی خواہش میں اسے پانے کی خواہش میں

بہت سے زخم ہیں دل میں مگر اِک زخم ایسا ہے
جو جل اٹھتا ہے راتوں میں جو لو دیتا ہے بارش میں