Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Aanand narayan mulla ki classical shairy




فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے
(آنند ناراين ملّا)

فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے
خون ہي خون مجھے رنگ ِ سحر لگتا ہے

مان لوں کيسے کہ ميں عيب سراپا ہوں فقط
ميرے احباب کا يہ حسن ِ نظر لگتا ہے

کل جسے پھونکا تھا يہ کہہ کے کہ دشمن کا ہے گھر
سوچتا ہوں تو وہ آج اپنا ہي گھر لگتا ہے

احتياطاَ کوئی در پھوڑ ليں ديوار ميں اب
شور بڑھتا ہوا کچھ جانب ِ در لگتا ہے

ايک دروازہ ہے ہر سمت ميں کھلنے کے لۓ
ہو نہ ہو يہ تو مجھے شيخ کا گھر لگتا ہے

Zafar Muradabadi ki Bahtreen Ghazal



ایک شکستہ روح قالب میں لیے پھرتے ہیں لوگ
(ظفرؔ مرادآبادی )
دوست زوحِ دشمنی ، قاتل شناسائی لگے
ساتھ جسکے دو قدم چلیے وہ ہر جائی لگے

سونی سونی کھڑکیاں ویران انگنائی لگے
اپنے گھر میں بھی مجھے صحرا کی تنہائی لگے

پاس جاکر دیکھیے ہر شخص نکلے ہے سراب
دور سے جو پیکرِ اخلاص و رعنائی لگے

اک شکستہ روح لیے قالب میں پھرتے ہیں لوگ
زندگی  جیسے  جنوں کی کارفرمائی لگے

بے سرے ماتم زدہ لہجے تو ہیں یارو!کہاں؟
گفتگو میں اتنی موسیقی کہ شہنائی لگے

ہر طرف نفرتیں ، یہ قتل و خوں ، یہ وحشتیں
شہر میں رہتے ہوئے انسان صحرائی لگے

اس قدر بیزار ہیں زخمِ تمنّا سے ظفرؔ
جو بھی نشتر اب ہمیں مارے مسیحائی لگے

Aalamtab Tishna .. Aseere dashte bala ka na majra




اسیر دشت بلا کا نہ ماجرا کہنا
(عالمتاب تشنہؔ)

اسیر دشت بلا کا نہ ماجرا کہنا
تمام پوچھنے والوں‌کو بس دعا کہنا

یہ کہنا رات گذرتی ہے اب بھی آنکھوں‌میں
تمہاری یاد کا قائم ہے سلسلہ کہنا

یہ کہنا مسند شاخ نمو پہ تھا جو کبھی
وہ پھول صورت خوشبو بکھر گیا کہنا

یہ کہنا ہم نے ہی طوفاں‌میں‌ڈال دی کشتی
قصور اپنا ہے دریا کو کیا برا کہنا

یہ کہنا ہو گئے ہم اتنے مصلحت اندیش
چلے جو لو تو اسے بھی خنک ہوا کہنا

یہ کہنا ہار نہ مانی کبھی اندھیروں‌سے
بجھے چراغ تو دل کو جلا لیا کہنا

یہ کہنا تم سے بچھڑ کر بکھر گیا تشنہؔ
کہ جیسے ہاتھ سے گر جائے آئینہ کہنا

Raghib Muradabadi .. Apne dil par hi Bharosa ma safar me rakhu




اپنے دل ہی پہ بھروسا میں سفر میں رکھوں
(راغبؔ مراد آبادي)

اپنے دل ہی پہ بھروسا میں سفر میں رکھوں
کون ہے راہ نما، کس کو نظر میں رکھوں

جب قدم میں تری یادوں کے نگر میں رکھوں
یہ بھی اک خواب ہے، سودا یہی سر میں رکھوں

کاش اتنی در و دیوار کو وسعت مل جائے
اپنے دشمن کو بھی میں اپنے ہی گھر میں رکھوں

لاکھ مغلوب کرے نیند، اندھیرا کھنکے
وا درِ چشم کو امید سحر میں رکھوں

پا برہنہ ہیں ابھی اور بھی آنے والے
برسرِ خار قدم راہ گذر میں رکھوں

Josh maleeh Aabadi .. Tujhey is se zada koi samjha hi nahi sakta



تجھے اس سے زيادہ کوئي سمجھا ہي نہيں سکتا
(جوشؔ مليح آبادي)

تجھے اس سے زيادہ کوئي سمجھا ہي نہيں سکتا
خدا وہ ہے جو حد ِ عقل ميں آ ہي نہيں سکتا

مرا دل عزت ِ فاني پہ اترا ہي نہيں سکتا
ترے دھوکے ميں اے دنيا کبھي آ ہي نہيں سکتا

رموز ِ معرفت کو معني ِ بے لفظ کہتے ہيں
يہ وہ باتيں ہيں جن کو ناطقہ پا ہي نہيں سکتا

جو ہر جنبش کے پيچھے اک سکوں محسوس کرتا ہے
کبھي وہ اضطراب ِ دل سے گھبرا ہي نہيں سکتا

Anwar Masood ..Waghairah Waghairah



ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغيرہ
(انورؔ مسعود)

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغيرہ
قربان گئے اس پہ دل و جان وغيرہ

بلي تو يونہي مفت ميں بدنام ہوئي ہے
تھيلے ميں تو کچھ اور تھا سامان وغيرہ

بے حرص و غرض فرض ادا کيجيے اپنا
جس طرح پوليس کرتي ہے چالان وغيرہ

اب ہوش نہيں کوئي کہ بادام کہاں ہے
اب اپني ہتھيلي پہ ہيں دندان وغيرہ

کس ناز سے وہ نظم کو کہہ ديتے ہيں نثري
جب اس کے خطا ہوتے ہيں اوزان وغيرہ

جمہوريت اک طرز حکومت ہے کہ جس ميں
گھوڑوں کي طرح بکتے ہيں انسان وغيرہ

ہر شرٹ کي بشرٹ بنا ڈالي ہے انورؔ
يوں چاک کيا ہم نے گريبان وغيرہ

Ji Dhoondta hai phir wahi fursat k rat din, complete ghazal by Ghalib



مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے
(غالبؔ)
مدتّ ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے 
جوشِ قدح سے بزم چراغاں کئے ہوئے

کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو
عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کئے ہوئے

پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کئے ہوئے

پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفَس
مدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کئے ہوئے

پھر پُرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق
سامانِ صد ہزار نمک داں کئے ہوئے

پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خُونِ دل
سازِ چمن طرازئ داماں کئے ہوئے

باہم دِگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
نظارہ و خیال کا ساماں کئے ہوئے

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے

پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
عرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کئے ہوئے

دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
صد گلستاں نگاہ کا ساماں کئے ہوئے

پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولنا
جاں نذرِ دلفریبئِ عُنواں کئے ہوئے

مانگے ہے پھر کِسی کو لبِ بام پر ہوَس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کئے ہوئے

چاہے ہے پھر کِسی کو مقابل میں آرزُو
سُرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کئے ہوئے

اِک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نِگاہ
چہرہ فروغ مے سے گلستاں کئے ہوئے

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بارِ منتِ درباں کئے ہوئے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت، کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے

غالب ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کئے ہوئے