Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Urdu shairy .. Khalid kashif



خالدؔ کاشف کی ایک غزل

چارہ گر سارے پریشاں ہیں کہ سب کیا تھا
زخم ہنستے تھے تو بیمار بھی ہنس پڑتا تھا

مڑ کر دیکھا تو دراڑیں تھیں کئی چہروں پر
آئینے میں تو ہر اک شخص حسیں لگتا تھا

یہ میرے عہد کا منشور ستائش ٹھہرا
وہ جو اب میں نہیں ہے وہ بہت اچھا تھا

زہر اترا تھا رگ و پے میں کسی خواہش کا
سانس لیتا تھا تو ہر موئے بدن ڈستا تھا

مہرباں رات تھی تنہائی کی جنت مجھ پر
میں تھا،احباب کے اشعار تھے،سناٹا تھا

جانے کیا یاد اسے آیا تھا اس دن خالدؔ"
آئینہ سامنے رکھ کر وہ بہت رویا تھا

Ahmad Faraz ki Ghazal


احمد فرازؔ
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فرازؔ
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

Urdu Shairy: isi liye mera saya mujhey gawara nahi



تابشؔ

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں

یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں

ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں

تم ہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں

اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں

ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں

لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں

زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابشؔ
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

(میں کوشش کے باوجود یہ معلوم نہیں کر سکا کہ یہ غزل تابش لکھنوی کی ہے یا تابشؔ عباس کی اگر کوئی صاحب نظر واقف ہو تو از راہ کرم مطلع فرمائیں)

Saghar siddiqui.. Ye Jo Deewane se Char Nazar aate hai



ساغر ؔ صدّیقی

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغرؔ
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں

Hamid Yazdani .. Zawiye kya kya bikhar kar



حامدؔ یزدانی

زاوئیے کیا کیا بکھر کر چشم تر میں رہ گئے
دیکھنے والے مگن ، کار ہنر میں رہ گئے

گر چکا پردہ ، سبھی کردار رخصت ہو چکے
پھر بھی کچھ منظر کف تمثیل گر میں رہ گئے

خستگان منزل حرف و معانی , کیا کہیں
کچھ سفر میں اور کچھ سطر سفر میں رہ گئے

گندھ گئے مٹی میں لیکن چاک تک پہنچے نہیں
نقش در کف تھے ، سو دست کارگر میں رہ گئے

خاک یوں بکھری مرے شوق سفر آغاز کی
فاصلے سارے سمٹ کر، بال و پر میں رہ گئے


Waseem Barelvi



وسیم ؔبریلوی اپنے مخصوص انداز میں

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کيسے
تيري مرضي کے مطابق نظر ئيں کيسے

گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے
پہلے يہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کيسے

قہقہہ آنکھ کے برتاؤ بدل ديتا ہے
ہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کيسے

کوئی اپني ہي نظر سے تو ہميں ديکھے گا
ايک قظرے کو سمندر نظر آئیں کيسے

Mustafa Khan Shefta ki Ghazal



مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک غزل

اس بزم ميں ہر چيز سے کمتر نظر آيا
وہ حسن کہ خورشيد کے عہدے سے بر آيا

بے فائدہ ہے وہم کہ کيوں بے خبر آيا
اس راہ سے جاتا تھا ہمارے بھي گھر آيا

کچھ دور نہيں ان سے کہ نيرنج بتا ديں
کيا فائدہ گر آنکھ سے لخت جگر آيا

گو کچھ نہ کہا پر ہوئے وہ دل ميں متاثر
شکوہ جو زباں پر ميرے آشفتہ تر آيا

بے طاقتي شوق سے ميں اٹھ ہي چکا تھا
ناگاہ وہ بيتاب مري قبر پر آيا

بے قدر ہے مفلس شجر خشک کي مانند
ياں درہم و دينار ميں برگ و ثمر آيا

حال دل صد چاک پہ کٹتا ہے کليجا
ہر پارہ اک الماس کا ٹکڑا نظر آيا

ديکھے کہ جدائي ميں ہے کيا حال، وہ بد ظن
اس واسطے شب گھر ميں ميرے بے خبر آيا

روداد ميں ہيں شيفتہؔ کے مختلف اقوال
پوچھيں گے وہاں سے جو کوئي معتبر آيا