Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے


ایک شعر ضرب المثل بن کر ہمیشہ میرے کانوں سے ٹکراتا رہتا تھا 

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اِتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

آج سرفنگ کرتے ہوئے مجھے پوری غزل دستیاب ہوئی تو اس غزل کو بہترین انداز میں ڈیزائن بھی کیا اور سوچا آپ حضرات کے ساتھ شیئر کروں۔


گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

خاطر ؔغزنوی

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اِتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

میں اِسے شُہرت کہوں یا اپنی رُسوائی کہوں
مُجھ سے پہلے اُس گلی میں میرے افسانے گئے

وحشتیں کُچھ اِس قدر اپنا مُقدّر ہوگئیں
ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ وِیرانے گئے

یُوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدِیک تر
آنسُوؤں کی دھُند میں لیکِن نہ پہچانے گئے

اب بھی اُن یادوں کی خوشبو ذہن میں محفُوظ ہے
بارہا ہم جِن سے گُلزاروں کو مہکانے گئے

کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ  کُشتۂ شب ہم ہی تھے
صُبح جب آئی تو مُجرِم ہم ہی گردانے گئے


اس طرح کی اور بھی بہت ساری نادر غزلیات مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔





میں تجھے بھولنا چاہوں بھی تو ناممکن ہے




غزل

اطہر ناسک

میں تجھے بھولنا چاہوں بھی تو ناممکن ہے
تو میری پہلی محبت ہے مرا محسن ہے

میں اسے صبح نہ جانوں جو ترے سنگ نہیں
میں اسے شام نہ مانوں کہ جو ترے بن ہے

کیسا منظر ہے ترے ہجر کے پس منظر کا
ریگِ صحرا ہے رواں اور ہوا ساکن ہے

تیری آنکھوں سے تری باتوں سے لگتا تو نہیں
مرے احباب یہ کہتے ہیں کہ تو کم سن ہے

ابھی کچھ دیر میں ہو جائے گا آنگن جل تھل
ابھی آغاز ہے بارش کا ابھی کِن مِن ہے

عین ممکن ہے کہ کل وقت فقط مرا ہو
آج مٹھی میں یہ آیا ہوا پہلا دن ہے

آج کا دن تو بہت خیر سے گزرا ناسک
کل کی کیوں فکر کروں کل کا خدا ضامن ہے


کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی





کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
پروین شاکر

کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی

اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی

پروین شاکر کی ایک غزل



پروین شاکر کی ایک غزل

چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا

جانے کس دکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتارہا

میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی تھی
اور وہ راستہ بدلتا رہا

رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جا ساتھ چلتا رہا

موسمی بیل تھی مَیں،سوکھ گئی
وہ تناور درخت ،پھلتا رہا

سَرد رُت میں،مسافروں کے لیے
پیڑ، بن کر الاؤ جلتا رہا

دل، مرے تن کا پھول سا بچہ
پتھروں کے نگر میں پلتا رہا

نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا

اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعرسلطان محمد قلی قطبؔ شاہ کی غزل(دکنی اردو میں)



اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعرسلطان محمد قلی قطبؔ شاہ کی غزل(دکنی اردو میں)

سب اختیار میرا تج ہات ہے پیارا
جس حال سوں رکھے گا ہے او خوشی ہمارا

نیناں انجھوں سوں دھوئوں پگ اپ پلک سوں جھاڑوں
جے کوئی خبر سولیاوے مکھ پھولوں کا تمہارا
بتخانہ نین تیرے ہو ربت نین کیا پتلیاں
مجھ نین ہیں پوجاری پوجا ادھان ہمارا
اس پتلیاں کی صورت کئی خواب میں جو دیکھے
رشک آئے مجھ، کرے مت کوئی سجدہ اس دوارا
تُج عاشقاں میں ہوتا جنگ و جدل سو سب دن
ہے شرعِ احمدی تُج انصاف کر خدارا
تُج خیال کی ہوس تھے ہے جیو ہمن سو زندہ
او خیال کد نجاوے ہم سرتھے ٹک بہارا
جب توں لکھیا قطبؔ شہ مہر محمدؐ اپ دل
ہے شش جہت میں تجھ کو حیدر کہ توا دہارا

قلی قطب شاہ ریاست گولکنڈ ہ کے فرمانروا تھے آپ کا دور حکومت تقریباً تیس سال رہاہندوستان کے مشہور شہر حیدرآباد کی بنیاد قلی قطب شاہ نے ہی رکھی اور چار مینار کی تعمیر کروائی۔
قلی قطب شاہ بڑے ہی علم دوست ، عربی اور فارسی کے ماہر اور اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے۔
آپ کے مجموعہ کلام میں غزلیات ، رباعیاں قصیدے اور مختلف قطعات وغیرہ شامل ہے۔قلی قطب شاہ کا کلام دکنی اردو ادب کو پیش کرتا ہے ان کے دور میں اردو فروغ پا رہی تھی ۔ قلی قطب شاہ کو بلا مبالغہ  ابان اردو کا  architect کہا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے کلام میں بکثرت ہندی فارسی اور عربی الفاظ  اور پنجابی و دکنی محاروں کو استعمال کیا  اپنی ریاست 
میں اردو زبان کو عام بول چال کی زبان بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

دل نا بنا ۔ ۔ ۔ 4 زبردست اشعار




غالباً میں ہشتم یا نہم میں تھا تب روزنامہ اردو ٹائمس ممبئی میں یہ تین زبردست اشعار پڑھے تھے اور ان میں اتنی جاذبیت محسوس ہوئی کہ 

فوراً ازبر ہو گئے تھے۔ آج اتفاقاً یاد آگئے تو سوچا آپ لوگوں کی نذر کروں۔

ان میں سے ایک شعر داغؔ کا ہے دوسرا جگرؔ کا اور تیسرا کسی اور شاعر کا ہے۔ اب اتنا عرصہ گذر گیا ہیکہ یہ یاد نہیں رہ سکا کونسا 
شعر کس شاعر کا ہے۔

فیس بک پر www.urdurisala.com  کے روح رواں جناب عبدل واحد ہاشمی سے ان اشعار کے تعلق سے گفتگو ہوئی اور ماشاءاللہ ان اشعار کے ساتھ جڑی دلچسپ باتیں بھی معلوم ہوئی ، حضرت نے یہ قصہ اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا تھا ان کی اجازت سے ہم یہاں تصحیح کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔


Ahmed Nadeem Qasmi Ki Bahtreen ghazal


احمد ندیمؔ قاسمی کی ایک پیاری غزل

مجھے دکھ یہ ہےکہ بہار میں بھی طیور بے پر و بال ہیں
میرے ہمسفر ! نہ ملول ہو، یہ ملال میرے ملال ہے

میری بے کلی سے خفا نہ ہو، میری جستجو کا بھرم نہ کھو
تجھے اک جواب وبال ہے، میرے لب پہ لاکھ سوال ہیں

وہ تھی اک لکیر سی آبجو،یہ ہے، چار سو کی فضائے ہو
وہ گھڑی تھی تیرے وصال کی، یہ فراق کے مہ و سال ہیں

یہ عجیب حسن قیاس ہے، کہ جو دور ہے وہی پاس ہے
یہ تصورات کے واہمے، میرے دشتِ غم کے غزال ہیں

یہ جو عرصہ گاہِ خیال ہے، تیرا فن ہے تیرا جمال ہے
میرے شعر ہوں کہ ادب میرا، یہ سبھی تیرے خد و خال ہے

یہ عجب طرح کا تضاد ہے ، یہ دل و نظر کا فساد ہے
میرے تجربے ہیں کمال پر ، میرے درد رو بہ زوال ہیں




تزئین شدہ شکل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں