Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

محسن بھوپالی کی ایک غزل



لب اگر یوں سئے نہیں ہوتے
اُس نے دعوے کئے نہیں ہوتے

خُوب ہے، خُوب تر ہے، خُوب ترین
اِس طرح تجزیئے نہیں ہوتے

گر ندامت سے تم کو بچنا تھا
فیصلے خُود کئے نہیں ہوتے

بات بین السّطوُر ہوتی ہے
شعر میں حاشئے نہیں ہوتے

تیرگی سے نہ کیجئے اندازہ
کچھ گھروں میں دیئے نہیں ہوتے

ظرف ہے شرطِ اوّلیں محسن
جام سب کے لیے نہیں ہوتے

گلزار ؔ ( سمپورن سنگھ ) کی ایک غزل


خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں

جانے کس کا ذکر تھا اس افسانے میں
درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں

شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں
چاند نے کتنی دیر لگادی آنے میں

رات گذرتے شاید تھوڑا وقت لگے
ذرا سی دھوپ انڈیل میرے پیمانے میں

دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے
کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

کلام نعیم اختر



کلام نعیم اختر  بن  دلاور حسُین مومن، بیلگام  

کہاں  یہ  ہم کھو گئے  ،  خودی ضِرار  ہو گئے
خبر نہیں نقش پا کی ،راہ   فرار   ہو گئے
بھلا  کیوں  راہ  زن ،ہمیں راہ بتاے گا
ملے گی  راہ  کیوں  بھلا  ،  راہ  قمار ہو  گئے
سوال تو  کیا    نہ  تھا، جواب   پھر  ملے  گا  کیوں
طلب تو حق  کی  تھی  نہیں   ، حق  غرار  ہو گئے
کتاب  و  نور  پہنچ  گیا  ، تکمیل     دیں  ہو گیا     
یہ  کیسی بے  روخی ہے     ،   سُو  دیار  ہو  گئے  
 وہ  دیں  فلاح    دو جہاں   و   دیں  بقاء  ارمغان
تڑپ  کچھ اسکی تھی  نہیں  ،  بد  مدارہو گئے
نہ   ہو ئی  چشم  نم  کبھی  ،   نہ  تھا  سوزِ  دل   کہیں
ملے نجات کیوں ہمیں  ،    شرخیار ہوگئے
دست قرآن و حدیث ِؐاست، فہمِ اصحا بہ ِ رسول ﷺرا
اطاعت رسول ؐسے ہی سلف ،خودی سرشار ہو گے



غزل شمبھو ناتھ توری



غزل
شمبھو ناتھ تواری

نہیں کچھ بھی بتانا چاہتا ہے
وہ آخر کیا چھپانا چاہتا ہے

رلایا ہے زمانے بھر کو اس نے
مگر خود مسکرانا چاہتا ہے

لگا کر آگ گلشن میں بھلا وہ
مکمل آشیانہ چاہتا ہے

بہا کر بےگناہوں کا لہو وہ
مسیحا کہلوانا چاہتا ہے

ذرا سی بات ہے بس روشنی کی
وہ اپنا گھر جلانا چاہتا ہے

بس اک قطرہ ہتھیلی پر سجا کر
وہ اک ساگر بنانا چاہتا ہے

زباں سے کچھ نہ بولوں ظلم سہہ کر
یہ کیا مجھ سے زمانہ چاہتا ہے

پرندے میں ابھی بھی حوصلہ ہے
فلک کے پار جانا چاہتا ہے

سبھی کی خامشی یہ کہہ رہی ہے
زباں تک کچھ تو آنا چاہتا ہے

ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل


ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل

دل ناداں کو کون سمجھائے
کیا خبر کب کہاں مچل جائے
ڈھل گئے شام کے حسیں سائے
دیکھیے رات کیا ستم ڈھائے
دل کو ضد ہے کہ اس کی بات رہے
خواہ یہ جان ہی چلی جائے
پھر دل سادہ آج ڈھونڈتا ہے
دشت کی دھوپ میں خنک سائے
آسماں تک رہی ہے خشک زمیں
کاش بادل اٹھے برس جائے
ہچکیاں آ رہی ہے ائے ماجدؔ
آج شاید ہم ان کو یاد آئے

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز


بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز

اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔
بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات  بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب  کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔

دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں  جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے   اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔

بچے ہوں یا بوڑھے، کیا   امیر کیا غریب، ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نہ لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے   وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز  فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت  سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟
چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا  اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر  و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے تحریر ی اردو (یونیکوڈ) ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔

بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔
چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے  حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ،  اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور  مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک  غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ  کا آغاز کیا ہے۔

26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔
محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔

اعجاذ عبید صاحب کی ایک پیاری سی غزل


میں نے کیا کام لاجواب کیا
اس کو عالم میں انتخاب کیا
کرم اس کے ستم سے بڑھ کر تھے
آج جب بیٹھ کر حساب کیا
کیسے موتی چھپائے آنکھوں میں
ہائے کس فن کا اکتساب کیا
کیسی مجبوریاں نصیب میں تھیں
زندگی کی کہ اک عذاب کیا
ساتھ جب گردِ کوئے یار رہی
ہر سفر ہم نے کامیاب کیا
کچھ ہمارے لکھے گئے قصّے
بارے کچھ داخلِ نصاب کیا
کیا عبیدؔ اب اسے میں دوں الزام
اپنا خانہ تو خود خراب کیا