Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Ghalib , Daagh , Ameer Meenai ...Ek hi zameen par kahi gai 3 Gazle ..



قارئیں بلوگ کے لئے میں آج تین استاد شعرا کی ایسی غزلیں پیش کر رہا ہوں جو ایک ہی زمیں پر کہی گئی ہیں۔
یہ غزلیات مجھے جناب وارث صاحب کے بلوگ صریر خانہ وارث پر حاصل ہوئی ہیں۔
غزلِ غالب

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تُو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسِل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں‌ نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غزلِ داغؔ

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا

کوئی فتنہ تاقیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو، تمہیں اعتبار ہوتا؟

غمِ عشق میں مزہ تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر، مئے خوشگوار ہوتا

نہ مزہ ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا
ہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا، نہ مجھے قرار ہوتا

ترے وعدے پر ستمگر، ابھی اور صبر کرتے
اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا

یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی
اگر ایک بار ملتا، تو ہزار بار ہوتا

گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشمِ مست دیکھی
مجھے کیا الٹ نہ دیتی، جو نہ بادہ خوار ہوتا

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا

تمہیں ناز ہو نہ کیونکر، کہ لیا ہے داغؔ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی، نہ یہ افتخار ہوتا


غزلِ امیرؔ مینائی

مرے بس میں یا تو یا رب، وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

پسِ مرگ کاش یوں ہی، مجھے وصلِ یار ہوتا
وہ سرِ مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا

ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا

مرے اتّقا کا باعث، تو ہے میری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا، تو شراب خوار ہوتا

میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا

نہیں پوچھتا ہے مجھ کو، کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا

وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یا رب
مرے دونوں پہلوؤں میں، دلِ بے قرار ہوتا

دمِ نزع بھی جو وہ بُت، مجھے آ کے مُنہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرم سار ہوتا

نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لَحَد فشار دیتی
سرِ راہِ کوئے قاتل، جو مرا مزار ہوتا

جو نگاہ کی تھی ظالم، تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا، جو جگر کے پار ہوتا

میں زباں سے تم کو سچّا، کہو لاکھ بار کہہ دُوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا

مری خاک بھی لَحَد میں، نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک، نہیں اعتبار ہوتا


Basheer badar ki dilkash Gazal




غزل کے دل میں بسے،نظم کی نظر میں رہے
(بشیر بدر )

غزل کے دل میں بسے، نظم کی نظر میں رہے
دیارِ لوح و قلم میں سدا خبر میں رہے

ہمارے حال پہ چڑیوں نے مہربانی کی
کٹے پھٹے نہیں جو پھل کہاں شجر میں رہے

تمام مُلک اندھیرے میں ڈوب جائے تو کیا
وہ چاہتے ہیں کہ سورج اُنہی کے گھر میں رہے

وطن میں پھرتے رہے ہم مہاجروں کی طرح
عجب نصیب ہے، ہر دور میں سفر میں رہے


تھا شوق گریہ جنہیں کھُل کے رو نہیں پائے
کبھی انیس، کبھی میر کے اثر میں رہے

کس احتیاط سے یہ زندگی گزار چلے
کسی کے دل میں رہے ہم کسی کے گھر میں رہے

غزل میں بے ادبی ہے برہنہ گفتاری
تمام پردہ شائستگی سبز میں رہے

Urdu Shairy : Meer Taqi Meer



گرچہ کب دیکھتے ہو، پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو یک نظر دیکھو

یوں عرق جلوہ گر ہے اس مونہہ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو

ہر خراشِ جبیں جراحت ہے
ناخنِ شوق کا ہنر دیکھو

تھی ہمیں آرزو لبِ خنداں
سو عوض اس کے چشمِ تر دیکھو

رنگِ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک دن آؤ یاں سحر دیکھو

دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو

پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے
یعنی جاتے ہیں دُور گر دیکھو

لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔ
دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو

Bismil Sabri .. na saba ki dosti hai na fiza ki hamdami hai



نہ صبا کی دوستی ہے نہ فضا کی ہمدمی ہے
(بسملؔ صابری )

نہ صبا کی دوستی ہے نہ فضا کی ہمدمی ہے
جہاں پھول کِھل رہے تھے وہاں دُھول اب جمی ہے

ہوئے ہم قریب لیکن ہیں نصیب اپنے اپنے
تیرے لب پہ مسکراہٹ مری آنکھ میں نمی ہے

تجھے پا لیا ہے میں نے مگر اب بھی سوچتی ہوں
میری زندگی میں شاید کسی چیز کی کمی ہے

وہ سُرور اول اول یہ غرور آخر آخر
وہ کرم بھی تھا ضروری یہ ستم بھی لازمی ہے

میری چشم  تر پہ بسملؔ نہ رکھو تم اپنا دامن
یہ گھٹا برسنے والی کہیں اِس طرح تھمی ہے

Akhtar Sheerani .. Bhala kyu kar na ho rato ko



غزل
(اخترؔ
 شیرانی)

بھلا کیوں کر نہ ہو ں راتوں کو نیندیں بیقرار اُس کی
کبھی لہرا چکی ہو جس پہ زلفِ مشکبار اس کی

اُمید وصل پر ، دل کو فریب صبر کیا دیجے؟
ادا وحشی صفت اس کی ،نظر بیگانہ وار ، اس کی!

جفائے ناز کی میں نے شکایت ہائے کیوں کی تھی
مجھے جینے نہیں دیتی نگاہِ شرمسار اس کی!

محبت تھی، مگر یہ بیقراری تو نہ تھی پہلے!
الہٰی! آج کیوں یاد آتی ہے بے اختیار اُس کی

کوئی کیوں کر بھلادے، ہائے ایسے کی محبت کو
وفائیں، دلنواز اُس کی ! جفائیں خوشگوار اُس کی

ہمیں عرضِ تمنا کی جسارت ہو تو کیوں کر ہو؟
ادائیں فتنہ ریز اس کی! نگاہیں، حشر بار اُس کی

برا ہو، اس تغافل کا کہ تنگ آکر یہ کہتا ہوں
مجھے کیوں ہو گئی الفت ، مرے پروردگار اس کی؟

مئے الفت کے مستانوں کو میخانے سے کیا مطلب؟
ادا ، روحِ نشاط اُس کی! نطر، جانِ بہار اُس کی!

یہاں کیا دیکھتے ہو ، ناصحو! گھر میں دھرا کیا ہے
مرے دل کے کسی پردے میں ڈہونڈھو یادگار اس کی

تغافل کا گلہ، کس کو نہیں، کس کس کو سمجھاؤں
نگاہیں منتظر اُس کی! اُمیدیں، بیقرار اُس کی!

مجھے تو عشق پیچاں! ایسے بل کھانے نہ آتے تھے
بتا کیا تجھ پہ لہرائی ہے زلفِ مشکبار اُس کی؟

انہیں کوچوں میں کل اخترؔ کو رسوا ہوتے دیکھا تھا
وہ آنکھیں اشکبار اُس کی، وہ باتیں دلنگار اُس کی!

Ahsaan Danish.. wada na sahi yunhi chale aao kisi din





وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤکسی دن
(احسان دانشؔ)

وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن
گیسو مرے دالان میں لہراؤ کسی دن

سن سن کے حریفوں کے تراشے ہوئے الزام
معیارِ حریفاں پہ نہ آ جاؤ کسی دن

یارو! مجھے منظور ، تغافل بھی جفا بھی
لیکن کوئی اس کو تو منا لاؤ کسی دن

کیوں ہم کو سمجھتا ہے وہ دو قالب و یکجاں
خوش فہم زمانے کو تو سمجھاؤ کسی دن

گتھی طلب و ترک کی کھلتی ہی رہے گی
اس عقدہء ہستی کو تو سلجھاؤ کسی دن

کچھ سوچ کے آپس کی شکایت کو بڑھاؤ
دنیا میں اکیلے ہی نہ رہ جاؤ کسی دن

بیکار پڑے ہیں نگہِ شوق کے بجرے
اس بحر میں طوفان بھی لاؤ کسی دن

ہیں جبکہ مہ و مہرِضیا خواہ تمہیں سے
لو میرے دئیے کی بھی تو اکساؤ کسی دن

یہ خشک جزیرے کہیں پتھر ہی نہ بن جائیں
آنکھیں جو عطا کی ہیں نظر آؤ کسی دن

یہ زخمِ طلب ، کاوشِ ناخن پہ نہ آجائے
اس گھاؤ کو مرہم سے بھی سلگاؤ کسی دن

دانش ہی کے اشعار ہیں دانش ہی کے افکار
ایسا نہ ہو دانش ؔہی کے ہو جاؤ کسی دن

Aanand narayan mulla ki classical shairy




فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے
(آنند ناراين ملّا)

فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے
خون ہي خون مجھے رنگ ِ سحر لگتا ہے

مان لوں کيسے کہ ميں عيب سراپا ہوں فقط
ميرے احباب کا يہ حسن ِ نظر لگتا ہے

کل جسے پھونکا تھا يہ کہہ کے کہ دشمن کا ہے گھر
سوچتا ہوں تو وہ آج اپنا ہي گھر لگتا ہے

احتياطاَ کوئی در پھوڑ ليں ديوار ميں اب
شور بڑھتا ہوا کچھ جانب ِ در لگتا ہے

ايک دروازہ ہے ہر سمت ميں کھلنے کے لۓ
ہو نہ ہو يہ تو مجھے شيخ کا گھر لگتا ہے