Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

پروین شاکر کی درد بھری غزل



غزل

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی

بدن کے قرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں دل میں رو ¿ں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گ

ندیمؔ احمد قاسمی کی ایک غزل




غزل

وہ کوئی اور نہ تھا، چند خشک پتے تھے
شجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھے

ابھی ابھی تمہیں سوچا تو کچھ نہ یاد آیا
ابھی ابھی تو ہم ایک دوسرے سے بچھڑے تھے

تمہارے بعد چمن پر جب ایک نظر ڈالی
کلی کلی میں خزاں کے چراغ جلتے تھے

تمام عمر وفا کے گنہگار رہے
یہ اور بات کہ ہم آدمی تو اچھے تھے

شب خاموش کو تنہائی نے زباں دے دی
پہاڑ گونجتے تھے، دشت سنسناتے تھے

وہ اک بار مرے جن کو تھا حیات سے پیار
جو زندگی سے گریزاں تھے روز مرتے تھے

نئے خیال اب آتے ہیں ڈھل کے زہن میں
ہمارے دل میں کبھی کھیت لہلہاتے تھے

یہ ارتقاءکا چلن کے ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے

ندیمؔ جو بھی ملاقات تھی ادھوری تھی
کہ ایک چہرے کے پیچھے ہزار چہرے تھ

Mohsin Naqwi .. Aap ki Aankho me kuch ..




محسنؔ نقوی

آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے
دِل بھی خوابوں کے جزیروں سے گزرنا چاہے

کتنا دِلکش ہَے شبِ غم کی خموشی کا فسوں
زندگی آپ کی آہٹ سے بھی ڈرنا چاہے

میں لہو بن کے تیرے رنگِ قبا سے اُلجھوں
تو شفق بن کے میرے رُخ پہ بکھرنا چاہے

جشنِ نو روز ہو یا شامِ غریباں کا سکوت
دِل ہر اِک خوف کی منزل سے گزرنا چاہے

رُوٹھ جانا تو نمائش ہے سراسر وَرنہ
زندگی یُوں بھیِ تیری بات پہ مرنا چاہے

یہ الگ بات کہ آنکھوں نے اُسے دیکھ لیا
ورنہ وہ عکس میرے دِل میں اُترنا چاہے

میری تقدیر کی صورت میرے اشکوں کی طرح
وہ حسیں شخص بہر حال سنورنا چاہے

دِن کی تقدیر کا حاصل بھی وہی ہےمحسنؔ
اِک ستارا جو سرِ شام اُبھرنا چاہے

Urdu shairy .. Khalid kashif



خالدؔ کاشف کی ایک غزل

چارہ گر سارے پریشاں ہیں کہ سب کیا تھا
زخم ہنستے تھے تو بیمار بھی ہنس پڑتا تھا

مڑ کر دیکھا تو دراڑیں تھیں کئی چہروں پر
آئینے میں تو ہر اک شخص حسیں لگتا تھا

یہ میرے عہد کا منشور ستائش ٹھہرا
وہ جو اب میں نہیں ہے وہ بہت اچھا تھا

زہر اترا تھا رگ و پے میں کسی خواہش کا
سانس لیتا تھا تو ہر موئے بدن ڈستا تھا

مہرباں رات تھی تنہائی کی جنت مجھ پر
میں تھا،احباب کے اشعار تھے،سناٹا تھا

جانے کیا یاد اسے آیا تھا اس دن خالدؔ"
آئینہ سامنے رکھ کر وہ بہت رویا تھا

Ahmad Faraz ki Ghazal


احمد فرازؔ
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فرازؔ
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

Urdu Shairy: isi liye mera saya mujhey gawara nahi



تابشؔ

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں

یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں

ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں

تم ہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں

اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں

ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں

لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں

زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابشؔ
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

(میں کوشش کے باوجود یہ معلوم نہیں کر سکا کہ یہ غزل تابش لکھنوی کی ہے یا تابشؔ عباس کی اگر کوئی صاحب نظر واقف ہو تو از راہ کرم مطلع فرمائیں)

Saghar siddiqui.. Ye Jo Deewane se Char Nazar aate hai



ساغر ؔ صدّیقی

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغرؔ
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں