Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعرسلطان محمد قلی قطبؔ شاہ کی غزل(دکنی اردو میں)



اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعرسلطان محمد قلی قطبؔ شاہ کی غزل(دکنی اردو میں)

سب اختیار میرا تج ہات ہے پیارا
جس حال سوں رکھے گا ہے او خوشی ہمارا

نیناں انجھوں سوں دھوئوں پگ اپ پلک سوں جھاڑوں
جے کوئی خبر سولیاوے مکھ پھولوں کا تمہارا
بتخانہ نین تیرے ہو ربت نین کیا پتلیاں
مجھ نین ہیں پوجاری پوجا ادھان ہمارا
اس پتلیاں کی صورت کئی خواب میں جو دیکھے
رشک آئے مجھ، کرے مت کوئی سجدہ اس دوارا
تُج عاشقاں میں ہوتا جنگ و جدل سو سب دن
ہے شرعِ احمدی تُج انصاف کر خدارا
تُج خیال کی ہوس تھے ہے جیو ہمن سو زندہ
او خیال کد نجاوے ہم سرتھے ٹک بہارا
جب توں لکھیا قطبؔ شہ مہر محمدؐ اپ دل
ہے شش جہت میں تجھ کو حیدر کہ توا دہارا

قلی قطب شاہ ریاست گولکنڈ ہ کے فرمانروا تھے آپ کا دور حکومت تقریباً تیس سال رہاہندوستان کے مشہور شہر حیدرآباد کی بنیاد قلی قطب شاہ نے ہی رکھی اور چار مینار کی تعمیر کروائی۔
قلی قطب شاہ بڑے ہی علم دوست ، عربی اور فارسی کے ماہر اور اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے۔
آپ کے مجموعہ کلام میں غزلیات ، رباعیاں قصیدے اور مختلف قطعات وغیرہ شامل ہے۔قلی قطب شاہ کا کلام دکنی اردو ادب کو پیش کرتا ہے ان کے دور میں اردو فروغ پا رہی تھی ۔ قلی قطب شاہ کو بلا مبالغہ  ابان اردو کا  architect کہا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے کلام میں بکثرت ہندی فارسی اور عربی الفاظ  اور پنجابی و دکنی محاروں کو استعمال کیا  اپنی ریاست 
میں اردو زبان کو عام بول چال کی زبان بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

دل نا بنا ۔ ۔ ۔ 4 زبردست اشعار




غالباً میں ہشتم یا نہم میں تھا تب روزنامہ اردو ٹائمس ممبئی میں یہ تین زبردست اشعار پڑھے تھے اور ان میں اتنی جاذبیت محسوس ہوئی کہ 

فوراً ازبر ہو گئے تھے۔ آج اتفاقاً یاد آگئے تو سوچا آپ لوگوں کی نذر کروں۔

ان میں سے ایک شعر داغؔ کا ہے دوسرا جگرؔ کا اور تیسرا کسی اور شاعر کا ہے۔ اب اتنا عرصہ گذر گیا ہیکہ یہ یاد نہیں رہ سکا کونسا 
شعر کس شاعر کا ہے۔

فیس بک پر www.urdurisala.com  کے روح رواں جناب عبدل واحد ہاشمی سے ان اشعار کے تعلق سے گفتگو ہوئی اور ماشاءاللہ ان اشعار کے ساتھ جڑی دلچسپ باتیں بھی معلوم ہوئی ، حضرت نے یہ قصہ اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا تھا ان کی اجازت سے ہم یہاں تصحیح کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔


Ahmed Nadeem Qasmi Ki Bahtreen ghazal


احمد ندیمؔ قاسمی کی ایک پیاری غزل

مجھے دکھ یہ ہےکہ بہار میں بھی طیور بے پر و بال ہیں
میرے ہمسفر ! نہ ملول ہو، یہ ملال میرے ملال ہے

میری بے کلی سے خفا نہ ہو، میری جستجو کا بھرم نہ کھو
تجھے اک جواب وبال ہے، میرے لب پہ لاکھ سوال ہیں

وہ تھی اک لکیر سی آبجو،یہ ہے، چار سو کی فضائے ہو
وہ گھڑی تھی تیرے وصال کی، یہ فراق کے مہ و سال ہیں

یہ عجیب حسن قیاس ہے، کہ جو دور ہے وہی پاس ہے
یہ تصورات کے واہمے، میرے دشتِ غم کے غزال ہیں

یہ جو عرصہ گاہِ خیال ہے، تیرا فن ہے تیرا جمال ہے
میرے شعر ہوں کہ ادب میرا، یہ سبھی تیرے خد و خال ہے

یہ عجب طرح کا تضاد ہے ، یہ دل و نظر کا فساد ہے
میرے تجربے ہیں کمال پر ، میرے درد رو بہ زوال ہیں




تزئین شدہ شکل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

فیض احمد فیضؔ کی غزل


فیض احمد فیضؔ کی غزل

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں

اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں
گوشے رہِ چمن میں غزل خواں ہوئے تو  ہیں

ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر
کچھ کچھ سحر کے رنگ پُر افشاں ہوئے تو ہیں

ان میں لُہو جلا ہو، ہمارا، کہ جان و دل
محفل میں کچھ چراغِ فروزاں ہوئے تو ہیں

ہاں کج کر و کلاہ کہ سب کچھ لُٹا کے ہم
اب بے نیازِ گردشِ دوراں ہوئے تو ہیں

اہلِ قفس کی صبح چمن میں کھلے گی آنکھ
بادِ صبا سے وعدہ و پیماں ہوئے تو ہیں

ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔ
سیراب چند خارِ مغیلاں ہوئے تو ہیں

Tilok Chand mahroom ki ek ghazal



تلوک چند محرومؔ کی ایک پیاری غزل

نظر اٹھا دل ناداں یہ جستجو کیا ہے ؟
اسی کا جلوہ تو ہے اور روبرو کیا ہے ؟

کسی کی ایک نظر نے بتا دیا مجھ کو
سرورِ بادہ بے ساغر و سبو کیا ہے

قفس عذاب سہی، بلبلِ اسیر ، مگر
ذرا یہ سوچ کہ وہ دامِ رنگ و بو کیا ہے ؟

گدا نہیں ہے کہ دستِ سوال پھیلائیں
کبھی نہ آپ نے پوچھا کہ آرزو کیا ہے؟

نہ میرے اشک میں شامل نہ ان کے دامن پر
میں کیا بتاؤں انہیں ، خونں آرزو کیا ہے ؟

سخن ہو سمع خراشی تو خامشی بہتر
اثر کرے نہ جو دل پر وہ گفتگو کیا ہے؟


نریش کمار شادؔ کی غزل



نریش کمار شادؔ کی غزل

تیرا ہجر میرا نصیب ہے،تیرا غم ہی میری حیات ہے
مجھے تیری دوری کا غم ہو کیوں،تو کہیں بھی ہو میرے ساتھ ہے

میرے واسطے تیرے نام پر کوئی حرف آئے، نہیں ! نہیں!
مجھے خوف دنیا نہیں مگر ،  میرے رو برو تیری ذات ہے

تیرا وصل ائے میری دلربا  ، نہیں میری قسمت تو کیا ہوا؟
میری مہ جبیں یہ ہی کم ہے کیا، تیری حسرتوں کو تو ساتھ ہے

تیرا عشق مجھ پہ ہے مہرباں، میرے دل کو حاصل ہے دو جہاں
میری جان جاں اسی بات پر ، میری جان جائے تو بات ہے




ڈیزائنڈ غزل یہاں دیکھیے

Urdu Ghazal .. Naresh kumaar Shaad



نریش کمار شادؔ کی غزل

جب بھی اس گل بدن کی یاد آئی
ہو گئی پُر بہار تنہائی

چونک اُٹھے حادثات دنیا کے
میرے ہونٹوں پہ جب ہنسی آئی

جب کسی نے تمھارا نام لیا
جانے کیوں مجھ کو اپنی یاد آئی

دیکھ اے شیخ میرے ساغر میں
اپنی جنت کی جلوہ فرمائی

ہوش میں شادؔ جب تجھے دیکھا
تجھ میں ہم نے تیری کمی پائی