Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

ماہر القادری کی ایک غزل



ماہرؔالقادری کی ایک غزل

وہ تیرے حال سے غافل دل ناشاد نہیں
وہ یہ کہتے ہیں مجھے فرصت بیداد نہیں

مسکراتے ہوئے پھولوں نے کہاشبنم سے
فطرتِ غم سے یہاں کوئی بھی آزاد نہیں

میں کہ خود اپنی جگہ پر بھی نہیں ہوں موجود
وہ کہ ہر جا ہیں و لیکن کہیں آباد نہیں

میری ہر بات پہ چہرہ متغیر کیوں ہے
تم تو کہتے تھے کوئی بات مجھے یاد نہیں

جانے کیا اس کی نگاہوں نے فسوں پھونک دیا
دل کسی طرح بھی آمادہ فریاد نہیں

میں تڑپتا ہوں فقط لطف کی خاطر ماہرؔ
وہ سمجھتے ہیں کہ دل تشنہ بیداد نہیں

مظفر وارثی ۔ ۔ ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے۔




ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

مظفرؔوارثی (مظفرا لدین )

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہے لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

اپنی آواز کے پتھر بھی نہ اس تک پہونچے
اس کی آنکوں کے اشارے میں بھی زد ہوتی ہے

جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے



شعبدہ گر بھی پہنتے ہے خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

مجروحؔ سلطان پوری کی ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔



مجروحؔ سلطان پوری کی ایک  غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوۓ تشنگی میں بہت ہےکہ ایک جام
ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس
پھرتی ہے کوئی شۓ نگہ یار کی طرح

سیدھی ہے راہ شوق ، پہ یونہی کہیں کہیں
خم ہو گئی ہے گیسوۓ دل دار کی طرح

بے تیشئہ نظر نہ چلو راہ رفتگان
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں
زخم جگر ہوئے لب و رخسار کی طرح

مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوۓ ہیں گنہگار کی طرح


سیماب اکبر آبادی کے دور آخر کی ایک غزل




غزل

سیماب اکبرآبادی

رہیں گے چل کے کہیں اوراگر یہاں نہ رہے
بَلا سے اپنی  جو آباد گُلِسْتان نہ رہے

ہم ایک لمحہ بھی خوش زیرِ آسماں نہ رہے
غنیمت اِس کوسَمَجْھیے کہ جاوِداں نہ رہے

ہمیں تو خود چَمن آرائی کا سلیقہ ہے
جو ہم رہے توگُلِسْتاں میں باغباں نہ رہے



شباب نام ہے دل کی شگفتہ کاری کا
وہ کیا جوان رہے جس کا دل جواں نہ رہے

حرم میں، دَیروکلیسا میں، خانقاہوں میں
ہمارے عشق کے چرچے کہاں کہاں نہ رہے

کبھی کبھی، رہی وابستگی قفس سے بھی
رہے چمن میں تو پابندِ آشیاں نہ رہے

فضائے گل ہے نظرکش و مَن ہے دامن کش
کہاں رہے تِرا آوارہ سر، کہاں نہ رہے

بہار جن کے تبسّم میں مُسکراتی تھی
وہ گُلِسْتاں  وہ جوانانِ گُلِسْتاں نہ رہے

خدا کے جاننے والے تو خیر کچھ تھے بھی
خدا کے ماننے والے بھی اب یہاں نہ رہے

ہمیں قفس سے کریں یاد پھر چمن والے
جب اور کوئی ہوا خواہِ آشیاں نہ رہے

کِیا بھی سجدہ تو دل سے کِیا نظر سے کِیا
خدا کا شُکر کہ ہم بارِ آستاں نہ رہے

ہےعصرِنَو سے یہ اِک شرط انقلاب کے بعد
ہم اب رہیں جو زمیں پر تو آسماں نہ رہے

برائے راست تعلّق تھا جن کا منزل سے
وہ راستے نہ رہے اب وہ کارواں نہ رہے

ہَمِیں خرابِ ضعیفی نہیں ہوئے سیماب
ہمارے وقت کے اکثر حَسِیں جواں نہ رہے

علامہ اقبال کی ایک غزل



غزل علامہ اقبالؔ

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام، وائے تمنائے خام!

پیر حرم نے کہا سن کے مری روئداد
پختہ ہے تیری فغاں، اب نہ اسے دل میں تھام

تھا اَرِنی گو کلیم، میں اَرِنی گو نہیں
اس کو تقاضا روا، مجھ پہ تقاضا حرام

گرچہ ہے افشائے راز، اہل نظر کی فغاں
ہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رندانہ عام


حلقۂ صوفی میں ذکر، بے نم و بے سوز و ساز
میں بھی رہا تشنہ کام، تو بھی رہا تشنہ کام

عشق تری انتہا، عشق مری انتہا
تو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام

آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا راز
ورنہ ہے مال فقیر سلطنت روم و شام


ساغر صدیقی : جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں



ساغر صدیقی کی ایک زبردست غزل


جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں
یاد بُھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں

لوگ جس بزم میں آتے ہیں ستارے لے کر
ہم اسی بزم میں بادیدئہ نم آتے ہیں

میں وہ اِک رندِ خرابات ہُوں میخانے میں
میرے سجدے کے لیے ساغرِ جم آتے ہیں

اب مُلاقات میں وہ گرمی جذبات کہاں
اب تو رکھنے وہ محبت کا بھرم آتے ہیں

قُربِ ساقی کی وضاحت تو بڑی مشکل ہے
ایسے لمحے تھے جو تقدیر سے کم آتے ہیں

میں بھی جنت سے نکالا ہُوا اِک بُت ہی تو ہُوں
ذوقِ تخلیق تجھے کیسے ستم آتے ہیں

چشم ساغرؔ ہے عبادت کے تصوّر میں سدا
دل کے کعبے میں خیالوں کے صنم آتے ہیں

اعتبار ساجد کی ایک عمدہ غزل




تیری رحمتوں کے دیار میں تیرے بادلوں کو پتا نہیں
ابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اِک الاؤ جلا نہیں

میری بزمِ دِل تو اُجڑ چُکی، مِرا فرشِ جاں تو سِمٹ چُکا
سبھی جا چُکے مِرے ہم نشِیں مگر ایک شخص گیا نہیں

در و بام سب نے سجا لیے، سبھی رَوشنی میں نہا لیے
مِری اُنگلِیاں بھی جھُلس گئیں مگر اِک چراغ جلا نہیں

غمِ زِندگی!  تِری راہ میں، شبِ آرزُو! تِری چاہ میں
جو اُجڑ گیا وہ بسا نہیں، جو بِچھڑ گیا وہ مِلا نہیں

جو دِل و نظر کا سُرُور تھا میرے پاس رہ کے بھی دُور تھا
وہی ایک گُلاب اُمید کا میری شاخِ جاں پہ کھِلا نہیں

پسِ کارواں سرِ رہگُزر میں شِکستہ پا ہُوں تو اِس لیے
کہ قدم تو سب سے مِلا لیے میرا دل کِسی سے مِلا نہیں

میرا ہمسفر جو عجِیب ہے تو عجِیب تر ہُوں مَیں آپ بھی
مُجھے منزِلوں کی خبر نہیں، اُسے راستوں کا پتہ نہیں