Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

امجد اسلام امجد کا فن پارہ



ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!

سورج  گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیے
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ”مہلت کتنی ہے!“

بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے!

لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں‘ کیسے بات کھلے؟
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!

سپنے بیچنے آ تو گئے ہو‘ لیکن دیکھ تو لو
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے!

دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے!

ایک ادھورا وعدہ اُس کا‘ ایک شکستہ دل
لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے!

میں ساحل ہوں امجد اور وہ دریا جیسا ہے
کتنی دُوری ہے دونوں میں‘ قربت کتنی ہے

جاوید اختر کا دلکش کلام



غزلِ جاوید اختر 


درد کے پھول بھی کھِلتے ہیں بِکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بَھر جاتے ہیں

راستہ روکے کھڑی ہے یہی اُلجھن کب سے
کوئی پُوچھے تو کَہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں میرے خواب مگر
میری دیواروں سے ٹکرا کے بِکھر جاتے ہیں

نرم الفاظ بھلی باتیں مہذّب لہجے
پہلی بارش ہی میں یہ رنگ اُتر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھُکائے ہوئے چُپ چاپ گزر جاتے ہیں

راحتؔ اندوری اپنے مخصوص لہجے میں۔۔۔


راحتؔ اندوری اپنے مخصوص لہجے میں۔۔۔

سمندر پار ہوتی جا رہی ہے
دعا ، پتوار ہوتی جا رہی ہے

دریچے اب کھلے ملنے لگے ہیں
فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے

کئی دن سے مرے اندر کی مسجد
خدا بیزار ہوتی جا رہی ہے



مسائل، جنگ، خوشبو، رنگ، موسم
غزل اخبار ہوتی جا رہی ہے

بہت کانٹوں بھری دنیا ہے لیکن
گلے کا ہار ہوتی جا رہی ہے

کٹی جاتی ہیں سانسوں کی پتنگیں
ہوا تلوار ہوتی جا رہی ہے

کوئی گنبد ہے دروازے کے پیچھے
صدا بیکار ہوتی جا رہی ہے

گلے کچھ دوست آ کر مل رہے ہیں
چھری پر دھار ہوتی جا رہی ہے

قتیل شفائی کی ایک پیاری غزل


قتیل شفائی کی ایک پیاری غزل

تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے


تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

چلو اچھا ہوا، کام آ گئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

قتیلؔ اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

غزلِ امجد اسلام امجد



غزلِ امجدؔ اسلام امجد 

نہ ربط ہے نہ معانی ، کہیں تو کس سے کہیں!
ہم اپنے غم کی کہانی ، کہیں تو کس سے کہیں!

سلیں ہیں برف کی سینوں میں اب دلوں کی جگہ
یہ سوزِ دردِ نہانی کہیں تو کس سے کہیں!

نہیں ہے اہلِ جہاں کو کو خود اپنے غم سے فراغ
ہم اپنے دل کی گرانی کہیں تو کس سے کہیں!

پلٹ رہے ہیں پرندے بہار سے پہلے
عجیب ہے یہ نشانی کہیں تو کس سے کہیں!

نئے سُخن کی طلبگار ہے نئی دُنیا
وہ ایک بات پرانی کہیں تو کس سے کہیں

نہ کوئی سُنتا ہے امجد نہ مانتا ہے اسے
حدیثِ شامِ جوانی کہیں تو کس سے کہیں!

امجد اسلام امجد کی پیاری غزل



ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی 
دیوار پر لکھی ہوئی تحریر جو بھی تھی 

ہر فرد لاجواب تھا، ہر نقش بے مثال
مِل جُل کے اپنی قوم کی تصویر جو بھی تھی 

جو سامنے ہے، سب ہے یہ،اپنے کیے کا پھل
تقدیر کی تو چھوڑئیے تقدیر جو بھی تھی

آیا اور اک نگاہ میں برباد کر گیا
ہم اہلِ انتظار کی جاگیر جو بھی تھی

قدریں جو اپنا مان تھیں، نیلام ہو گئیں 
ملبے کے مول بک گئی تعمیر جو بھی تھی 

طالب ہیں تیرے رحم کےعدل کے نہیں 
جیسا بھی اپنا جُرم تھا، تقصیر جو بھی تھی

ہاتھوں پہ کوئی زخم  نہ پیروں پہ کچھ نشاں 
سوچوں میں تھی پڑی ہُوئی، زنجیر جو بھی تھی

یہ اور بات چشم نہ ہو معنی آشنا
عبرت کا ایک درس تھی تحریر جو بھی تھی

جون ایلیا : خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے




خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

انہیں شہروں کو شتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے

بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے

پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!
اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے


یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے

ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوال
روز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے

یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جونؔ جو ڈھائے بھی گئے