Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

غزل شمبھو ناتھ توری



غزل
شمبھو ناتھ تواری

نہیں کچھ بھی بتانا چاہتا ہے
وہ آخر کیا چھپانا چاہتا ہے

رلایا ہے زمانے بھر کو اس نے
مگر خود مسکرانا چاہتا ہے

لگا کر آگ گلشن میں بھلا وہ
مکمل آشیانہ چاہتا ہے

بہا کر بےگناہوں کا لہو وہ
مسیحا کہلوانا چاہتا ہے

ذرا سی بات ہے بس روشنی کی
وہ اپنا گھر جلانا چاہتا ہے

بس اک قطرہ ہتھیلی پر سجا کر
وہ اک ساگر بنانا چاہتا ہے

زباں سے کچھ نہ بولوں ظلم سہہ کر
یہ کیا مجھ سے زمانہ چاہتا ہے

پرندے میں ابھی بھی حوصلہ ہے
فلک کے پار جانا چاہتا ہے

سبھی کی خامشی یہ کہہ رہی ہے
زباں تک کچھ تو آنا چاہتا ہے

ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل


ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل

دل ناداں کو کون سمجھائے
کیا خبر کب کہاں مچل جائے
ڈھل گئے شام کے حسیں سائے
دیکھیے رات کیا ستم ڈھائے
دل کو ضد ہے کہ اس کی بات رہے
خواہ یہ جان ہی چلی جائے
پھر دل سادہ آج ڈھونڈتا ہے
دشت کی دھوپ میں خنک سائے
آسماں تک رہی ہے خشک زمیں
کاش بادل اٹھے برس جائے
ہچکیاں آ رہی ہے ائے ماجدؔ
آج شاید ہم ان کو یاد آئے

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز


بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز

اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔
بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات  بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب  کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔

دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں  جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے   اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔

بچے ہوں یا بوڑھے، کیا   امیر کیا غریب، ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نہ لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے   وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز  فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت  سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟
چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا  اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر  و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے تحریر ی اردو (یونیکوڈ) ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔

بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔
چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے  حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ،  اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور  مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک  غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ  کا آغاز کیا ہے۔

26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔
محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔

اعجاذ عبید صاحب کی ایک پیاری سی غزل


میں نے کیا کام لاجواب کیا
اس کو عالم میں انتخاب کیا
کرم اس کے ستم سے بڑھ کر تھے
آج جب بیٹھ کر حساب کیا
کیسے موتی چھپائے آنکھوں میں
ہائے کس فن کا اکتساب کیا
کیسی مجبوریاں نصیب میں تھیں
زندگی کی کہ اک عذاب کیا
ساتھ جب گردِ کوئے یار رہی
ہر سفر ہم نے کامیاب کیا
کچھ ہمارے لکھے گئے قصّے
بارے کچھ داخلِ نصاب کیا
کیا عبیدؔ اب اسے میں دوں الزام
اپنا خانہ تو خود خراب کیا


منور رانا کی حقیقت بھری غزل


سیاسی آدمی کی شکل تو پیاری نکلتی ہے
مگر جب گفتگو کرتا ہے چنگاری نکلتی ہے

لبوں پر مسکراہٹ دل میں بیزاری نکلتی ہے
بڑے لوگوں میں ہی اکثر یہ بیماری نکلتی ہے

محبت کو زبردستی تو لادا جا نہیں سکتا
کہیں کھڑکی سے میری جان الماری نکلتی ہے

یہی گھر تھا جہاں مل جل کے سب ایک ساتھ رہتے تھے
یہی گھر ہے الگ بھائی کی افطاری نکلتی ہے

وصی شاہ کی ایک دلکش غزل



میں تیرے لب پہ ہوں دیرینہ شیکایت کی طرح
یاد رکھنا ہے تو نے مجھ کو عداوت کی طرح

چاند نکلے تو میرا جسم مہک اُٹھتا ھے
رُوح میں اُٹھتی ہوئی تازہ محبت کی طرح

تیری خاطر تو کوئی جان بھی لے سکتا ھوں
میں نے چاہا ہے تجھے گاؤں کی عزت کی طرح

کھل رہی ہےمیرے دیرینہ مسائل کی گرہ
میرے ماحول میں اُترا ہے وہ برکت کی طرح

اب تیرے ہجر میں کوئی لطف نہیں ہے باقی
اب تجھے یاد بھی کرتے ہیں تو عادت کی طرح

تم میری پہلی محبت تو نہیں ہو لیکن
میں نے چاہا ہے تمہیں پہلی محبت کی طرح

وہ جو آتی ہے تو پھر لوٹ کے جاتی ہی نہیں
تم لپٹ جاؤ کبھی ایسی مصیبت کی طرح

میرے دل میں کوئی معصوم سا بچہ ہے وصیؔ
جو تجھے سوچتا رہتا ہے شرارت کی طرح

امجد اسلام امجد کا فن پارہ



ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!

سورج  گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیے
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ”مہلت کتنی ہے!“

بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے!

لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں‘ کیسے بات کھلے؟
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!

سپنے بیچنے آ تو گئے ہو‘ لیکن دیکھ تو لو
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے!

دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے!

ایک ادھورا وعدہ اُس کا‘ ایک شکستہ دل
لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے!

میں ساحل ہوں امجد اور وہ دریا جیسا ہے
کتنی دُوری ہے دونوں میں‘ قربت کتنی ہے