Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہے



غزل
از ڈاکٹر جاویدؔ جمیل

ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہے
اداس دل کو سرِشام ہونا پڑتا ہے

خبیث تہمتیں دامن کو چیر جاتی ہیں
تمہارے واسطے بدنام ہونا پڑتا ہے

ہمیں سے لگتا نہیں ہے کسی پہ بھی الزام
ہمیں کو موردِ الزام  ہونا پڑتا ہے

قلم ہیں کتنے جو تلوار بن کے جیتے ہیں
یہاں قلم کو بھی نیلام ہونا پڑتا ہے

یہی ہے ارض و سماوات کا اصول، ہمیں
کبھی سبب کبھی انجام ہونا پڑتا ہے

ہر اک گناہ گواہی سے بچ نہیں سکتا
کبھی تو رجم سرِ عام ہونا پڑتا ہے

ہدف پہ لگنے سے پہلے یہ ہوتا ہے جاویدؔ
کئی نشانوں کو ناکام ہونا پڑتا ہے

عالیہ تقوی کی ایک غزل



 حال دل کا کہا نہیں جاتا
اور چپ بھی رہا نہیں جاتا

ہوگا کچھ تجھ میں ایسا ورنہ دل
ہر کسی کو دیا نہیں جاتا۔۔

ان کے دل کی طرف بتا رہبر
کیا کوئی راستہ نہیں جاتا

کیوں قفس سے لگاؤ یہ بلبل
گو رہا ہوگیا نہیں جاتا

خود جیودوسروں کوجینےدو
یوں بھلا کیوں جیا نہیں جاتا

بس کر اےآسمان تیرا ستم
اور ہم سے سہا نہیں جاتا

ہےنکیرین عمربھرکی تھکن
مت جگاؤاٹھا نہیں جاتا

دو گھڑی بانٹ لو کسی کا غم
اس میں کچھ عالیہ نہیں جاتا

عالیہ تقوی،الہ آباد

ماں... صدیق ثانی




ماں
صدیق ثانی

تو جا کے سو گئی مٹی کی اوڑھ کر چادر
سکھا گئی مری آنکھوں کو جاگنا شب بھر

میں اب جو روؤں تو آنسو زمین پر ٹپکیں
کوئی نہیں جو سمیٹے انہیں گوہر کہہ کر

کوئی نہیں جو تشفی کو ہاتھ سر پہ رکھے
کوئی نہیں جو دعاؤں کی بارشیں کر دے

میں روٹھ جاؤں کسی سے کوئی مناتا نہیں
میں ٹوٹ پھوٹ کے بکھروں کوئی اٹھاتا نہیں

میں بھوک پیاس کے صحرا میں جتنی دیر جلوں
کسی کو فکر نہیں ہے کہ میں کہاں پر ہوں

کوئی اتار کے لاتا نہیں  صلیب سے اب
کوئی بلاتا نہیں زور سے، قریب سے اب

یہ رنج و غم کی تپش اب مجھے جلاتی ہے
میں اب جو روؤں تو  تقدیر مسکراتی ہے

وہی ہے زعم وہی بال و پر ہوا ہے وہی
میں چلنا چاہوں تو قدموں میں راستہ ہے وہی

پر ایک حرفِ دعا کی کمی جو اب ہے مجھے
اس ایک حرفِ دعا کی بڑی طلب ہے مجھے


انا قاسمی کی ایک غزل



غزل

روٹھنا مجھ سے مگر خود کو سزا مت دینا
زلف  رخسار سے کھیلے تو ہٹا مت دینا

میرے اس جرم کی قسطوں میں سزا مت دینا
بے وفائی کا صلہ یار وفا مت دینا

کون آئے گا دہکتے ہوئے شعلوں کے پرے
تھک کے سو جاؤں تو اے خواب جگہ مت دینا

ساری دنیا کو جلا دے گا ترا آگ کا کھیل
بھڑکے جذبات کو آنچل کی ہوا مت دینا

خون ہو جائیں نہ قسمت کی لکیریں تیری
میلے ہاتھوں کو کبھی رنگے حنا مت دینا

اوچھی پلکوں پہ حسیں خواب سجانے والے
میری آنکھوں سے میری نیند اڑا مت دینا

سوچ لینا کوئی تاویل مناسب لیکن
اس ہتھیلی سے مرا نام مٹا مت دینا

حمیدؔ ناگپوری کی ایک غزل


فکر پابندئ حالات سے آگے نہ بڑھی
زندگی قیدِ مقامات سے آگے نہ بڑھی

ہم سمجھتے تھے غمِ دل کا مداو ا ہوگی
وہ نظر پرسشِ حالات سے آگے نہ بڑھی

اُن کی خاموشی بھی افسانہ در افسانہ بنی
ہم نے جو بات کہی بات سے آگے نہ بڑھی

سرخوشی بن نہ سکی زہرِ الم کا تریاق
زندگی تلخئ حالات سے آگے نہ بڑھی

عشق ہر مر حلۂ غم کی حدیں توڑ چُکا
عقل اندیشۂ حالات سے آگے نہ بڑھی

ایسی جنت کی ہوس تجھ کو مُبارک زاہد
جو ترے حسنِ خیالات سے آگے نہ بڑھی

نگہِ دوست میں توقیر نہیں اُس کی حمیدؔ
 وہ تمنّا جو مناجات سے آگے نہ بڑھی

صادق اندوری کی ایک غزل


مٹے کچھ ایسے کہ موجود خاک و خس بھی نہیں
کہاں نشاں نشیمن کہیں قفس بھی نہیں

تلاش کرنا ہے خود ہم کو جادۂ منزل
کہ راہبر کوئی اب اپنے پیش رپس بھی نہیں

یہ روز روز کے طعنے، یہ صبح و شام کے طنز
سلوک دوست بجا، لیکن اس پہ بس بھی نہیں

ہر اک نفس پہ مسلط ہے تلخی ماحول
جئیں تو کیسے جئیں زندگی میں رس بھی نہیں

تباہ کر دے جو پاکیزگی کے دامن کو
بلند اتنا مگر شعلہ ہوس بھی نہیں

وہ اس مقام سے صادق پکارتے ہیں ہمیں
جہاں ہمارے تخیل کی دسترس بھی نہیں

محسن بھوپالی کی ایک غزل



لب اگر یوں سئے نہیں ہوتے
اُس نے دعوے کئے نہیں ہوتے

خُوب ہے، خُوب تر ہے، خُوب ترین
اِس طرح تجزیئے نہیں ہوتے

گر ندامت سے تم کو بچنا تھا
فیصلے خُود کئے نہیں ہوتے

بات بین السّطوُر ہوتی ہے
شعر میں حاشئے نہیں ہوتے

تیرگی سے نہ کیجئے اندازہ
کچھ گھروں میں دیئے نہیں ہوتے

ظرف ہے شرطِ اوّلیں محسن
جام سب کے لیے نہیں ہوتے