Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

رضیہ کاظمی صاحبہ کی تین غزلیں


رضیہ کاظمی صاحبہ کی تین غزلیں

ان کو عادت ہے آزمانے کی

اور  مجھ  کو   فریب  کھانے  کی

جایئں کیوں در پہ بار بار اُن کے

بات    یہ  ہے       اَنا    گنوانے    کی

اپنے  معمول  چھوڑ  کر   ان  کو

صرف دُھن ہے مجھے ستانے کی

ان کے  آنے  سے بڑھ گئ رونق

جاگی  قسمت   غریب خانے  کی

ہے   خبر  گرم    آ  گیا   صیّاد

اب   نہیں  خیر  آشیانے   کی

شاعری  دل  کو  جو چُھوۓ  رضیہ

مستحق    ہے   وہ   داد   پانے    کی

==================

وہ نہ کردہ گناہوں کی سزا  دیتے ہیں

ہم کہ اقرار میں سر اپنا  جھکا دیتے ہیں

مشتعل  ہونا   یوں  ہی  فطرتِ  انسانی  ہے

پھر بھی ہم کس لیے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں

گہہ لگا لیتے  ہیں آنکھوں سے وہ سرمہ کی طرح

مشتعل  آنسو  کبھی  نظروں سے گرا  دیتے ہیں

اک  تکلف  کی   جو   دیوار  کھڑی کر   لی  ہے

اب سمجھداری سے خود  مِل  کے گرا دیتے ہیں

دِ ن بدن رشتوں میں پڑتی رہیں یوں ہی گا نٹھیں

کیوں کہ ہم ہاتھ میں غیروں کے سِرا دیتے ہیں

یہ قدم وہ ہیں ٹھہر جایئں جہاں بھی تھک کر

ایک  منزل    نیئ    اُس  جا   کو  بنا   دیتے  ہیں

یا د آجاتے ہیں  ماضی  کے  سنہرے  لمحے

اور  وہ  رضیہ  ہمیں  دیوانہ  بنا  دیتے  ہیں



ہر چلن ہر نیے  معیار سے ڈر لگتا ہے

آج کل گرمیئ بازار سے ڈر لگتا ہے

وہ قیامت ابھی آجاۓجو کل آنی ہے

سر پہ لٹکی ہوئ  تلوار سے ڈر لگتا  ہے

اِ ن مکھوٹوں میں ہوں گے وہ ہی پُرانے چہرے

ہر   بدلتی   ہوئ   سرکار    سے    ڈر   لگتا   ہے

پا بہ  زنجیر  کیا   گھر   کے  جھمیلوں  نے   یوں

اب تو خود اپنے ہی گھر بار سے  ڈر لگتا   ہے

ایک سایہ بھی جو قسمت سے  ملا  یہ مجھ کو

ڈھے نہ جاے کہیں دیوار سے ڈر لگتا ہے

مشتبہ ٹھہرے  سبٖھی رضیہ  زمانے  والے


آستینوں میں  چھپے  مار  سے  ڈر لگتا ہے

فریاد آزر صاحب کی ایک غزل



لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی زندگی کی مسلسل قیامت میں ہیں
ہم ازل سے چمکتی ہوئی خواہشوں کی طلسمی حراست میں ہیں

اس کے کہنے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ زندگی آخرت عکس ہے
اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم لوگ دوزخ میں ہیں یا کہ جنت میں ہیں

تجھ سے بچھڑے تو آغوشِ مادر میں‘پھر پانووں پر ‘پھر سفر درسفر
دیکھ پھر تجھ سے ملنے کی خواہش میں کب سے لگاتار ہجرت میں ہیں

بس ذرا سا فرشتوں کو بھی سمتِ ممنوعہ کی خواہشیں بخش دے
اور پھر دیکھ یہ تیرے بے لوث بندے بھی کتنی اطاعت میں ہیں

اُس طرف سارے بے فکر اوراق خوش ہیں کہ بس حرفِ آخر ہیں ہم
اِس طرف جانے کتنے مفاہیم پوشیدہ اک ایک آیت میں ہیں

منتظر ہے وہ لمحہ ہمارا‘ ہمارے سب اعمال نامے لیے
اور ہم بسترِ زندگی پر بڑے ناز سے خوابِ غفلت میں ہیں

ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہے



غزل
از ڈاکٹر جاویدؔ جمیل

ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہے
اداس دل کو سرِشام ہونا پڑتا ہے

خبیث تہمتیں دامن کو چیر جاتی ہیں
تمہارے واسطے بدنام ہونا پڑتا ہے

ہمیں سے لگتا نہیں ہے کسی پہ بھی الزام
ہمیں کو موردِ الزام  ہونا پڑتا ہے

قلم ہیں کتنے جو تلوار بن کے جیتے ہیں
یہاں قلم کو بھی نیلام ہونا پڑتا ہے

یہی ہے ارض و سماوات کا اصول، ہمیں
کبھی سبب کبھی انجام ہونا پڑتا ہے

ہر اک گناہ گواہی سے بچ نہیں سکتا
کبھی تو رجم سرِ عام ہونا پڑتا ہے

ہدف پہ لگنے سے پہلے یہ ہوتا ہے جاویدؔ
کئی نشانوں کو ناکام ہونا پڑتا ہے

عالیہ تقوی کی ایک غزل



 حال دل کا کہا نہیں جاتا
اور چپ بھی رہا نہیں جاتا

ہوگا کچھ تجھ میں ایسا ورنہ دل
ہر کسی کو دیا نہیں جاتا۔۔

ان کے دل کی طرف بتا رہبر
کیا کوئی راستہ نہیں جاتا

کیوں قفس سے لگاؤ یہ بلبل
گو رہا ہوگیا نہیں جاتا

خود جیودوسروں کوجینےدو
یوں بھلا کیوں جیا نہیں جاتا

بس کر اےآسمان تیرا ستم
اور ہم سے سہا نہیں جاتا

ہےنکیرین عمربھرکی تھکن
مت جگاؤاٹھا نہیں جاتا

دو گھڑی بانٹ لو کسی کا غم
اس میں کچھ عالیہ نہیں جاتا

عالیہ تقوی،الہ آباد

ماں... صدیق ثانی




ماں
صدیق ثانی

تو جا کے سو گئی مٹی کی اوڑھ کر چادر
سکھا گئی مری آنکھوں کو جاگنا شب بھر

میں اب جو روؤں تو آنسو زمین پر ٹپکیں
کوئی نہیں جو سمیٹے انہیں گوہر کہہ کر

کوئی نہیں جو تشفی کو ہاتھ سر پہ رکھے
کوئی نہیں جو دعاؤں کی بارشیں کر دے

میں روٹھ جاؤں کسی سے کوئی مناتا نہیں
میں ٹوٹ پھوٹ کے بکھروں کوئی اٹھاتا نہیں

میں بھوک پیاس کے صحرا میں جتنی دیر جلوں
کسی کو فکر نہیں ہے کہ میں کہاں پر ہوں

کوئی اتار کے لاتا نہیں  صلیب سے اب
کوئی بلاتا نہیں زور سے، قریب سے اب

یہ رنج و غم کی تپش اب مجھے جلاتی ہے
میں اب جو روؤں تو  تقدیر مسکراتی ہے

وہی ہے زعم وہی بال و پر ہوا ہے وہی
میں چلنا چاہوں تو قدموں میں راستہ ہے وہی

پر ایک حرفِ دعا کی کمی جو اب ہے مجھے
اس ایک حرفِ دعا کی بڑی طلب ہے مجھے


انا قاسمی کی ایک غزل



غزل

روٹھنا مجھ سے مگر خود کو سزا مت دینا
زلف  رخسار سے کھیلے تو ہٹا مت دینا

میرے اس جرم کی قسطوں میں سزا مت دینا
بے وفائی کا صلہ یار وفا مت دینا

کون آئے گا دہکتے ہوئے شعلوں کے پرے
تھک کے سو جاؤں تو اے خواب جگہ مت دینا

ساری دنیا کو جلا دے گا ترا آگ کا کھیل
بھڑکے جذبات کو آنچل کی ہوا مت دینا

خون ہو جائیں نہ قسمت کی لکیریں تیری
میلے ہاتھوں کو کبھی رنگے حنا مت دینا

اوچھی پلکوں پہ حسیں خواب سجانے والے
میری آنکھوں سے میری نیند اڑا مت دینا

سوچ لینا کوئی تاویل مناسب لیکن
اس ہتھیلی سے مرا نام مٹا مت دینا

حمیدؔ ناگپوری کی ایک غزل


فکر پابندئ حالات سے آگے نہ بڑھی
زندگی قیدِ مقامات سے آگے نہ بڑھی

ہم سمجھتے تھے غمِ دل کا مداو ا ہوگی
وہ نظر پرسشِ حالات سے آگے نہ بڑھی

اُن کی خاموشی بھی افسانہ در افسانہ بنی
ہم نے جو بات کہی بات سے آگے نہ بڑھی

سرخوشی بن نہ سکی زہرِ الم کا تریاق
زندگی تلخئ حالات سے آگے نہ بڑھی

عشق ہر مر حلۂ غم کی حدیں توڑ چُکا
عقل اندیشۂ حالات سے آگے نہ بڑھی

ایسی جنت کی ہوس تجھ کو مُبارک زاہد
جو ترے حسنِ خیالات سے آگے نہ بڑھی

نگہِ دوست میں توقیر نہیں اُس کی حمیدؔ
 وہ تمنّا جو مناجات سے آگے نہ بڑھی