Download Urdu Novels in PDF, Free Urdu Novels PDF, Peer e Kamil by Umera Ahmed,

Tag

Showing posts with label محسن نقوی. Show all posts
Showing posts with label محسن نقوی. Show all posts

محسن نقوی کی ایک بہترین غزل


 
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
رزق، ملبوس ، مکاں، سانس، مرض، قرض، دوا
منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ
دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن
آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ
محسن نقوی

غزل محسن نقوی



غزل 
======
محسن نقوی 
---------------------

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے 
وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے 

یہ تجھ  کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے 

ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ 
کبھی یہ جشن سر_ راہ گزار کرنا ہے 

مثال _شاخ _برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی 
خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے 

تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے 
کہ شغل _شب تو ستارے شمار کرنا ہے 

کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں 
قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے 

خدا خبر یہ کوئی  ضد کہ شوق ہے محسن 
خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے

محسن نقوی کی ایک پیاری غزل



محسن ؔ نقوی کی ایک پیاری غزل

انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے
گھر کا ہر اک چراغ بجھا میرے سامنے

یاد آ نہ جائے مقتل یاراں کی رات پھر
نیزے پہ کوئی سر نہ سجا میرے سامنے

اس کے خلوص میں بھی ضرورت کا رنگ تھا
وہ دے رہا تھا مجھ کو دعا میرے سامنے

مجھ سے بچھڑ کے خط میں لکھی اس نے دل کی بات
کیوں اس کو حوصلہ نہ ہوا میرے سامنے

میرے لہو سے تیرا لبادہ بھی تر ہوا
اب میرا سوگ تو نہ منا میرے سامنے

دل پر ہے نقش لطف عزیزاں کا سلسلہ
سب پر کرم وہ میرے سوا میرے سامنے

وہ جھوٹ ہی سہی مجھے یوں بھی عزیز ہے
کہنا تھا جو بھی،اس نے کہا میرے سامنے

جیسے میں آشنائے چمن ہی نہ تھا کبھی
گزری ہے یوں بھی آج صبا میرے سامنے

وہ لمحہ نزول قیامت سہی مگر
اک دن تو آئے میرا خدا میرے سامنے

کل تک وہ آئینے سے بھی نازک مزاج تھا
محسنؔ وہ شخص ٹوٹ گیا میرے سامنے

Mohsin Naqwi ki Bahtreen ghazal



محسن ؔ نقوی کی بہترین غزل

اب وہ طوفان ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے تیرے بعد خلاؤں جیسا

کاش دنیا میرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز،صداؤں جیسا

پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا

کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس مآل
پھول کھل کر بھی لگا زرد خزاؤں جیسا

کیا قیامت ہے کہ دنیا اسے سردار کہے
جس کا انداز سخن بھی ہو گداؤں جیسا

پھر تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر میرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا

بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسامحسنؔ
اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

Mohsin Naqwi .. Aap ki Aankho me kuch ..




محسنؔ نقوی

آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے
دِل بھی خوابوں کے جزیروں سے گزرنا چاہے

کتنا دِلکش ہَے شبِ غم کی خموشی کا فسوں
زندگی آپ کی آہٹ سے بھی ڈرنا چاہے

میں لہو بن کے تیرے رنگِ قبا سے اُلجھوں
تو شفق بن کے میرے رُخ پہ بکھرنا چاہے

جشنِ نو روز ہو یا شامِ غریباں کا سکوت
دِل ہر اِک خوف کی منزل سے گزرنا چاہے

رُوٹھ جانا تو نمائش ہے سراسر وَرنہ
زندگی یُوں بھیِ تیری بات پہ مرنا چاہے

یہ الگ بات کہ آنکھوں نے اُسے دیکھ لیا
ورنہ وہ عکس میرے دِل میں اُترنا چاہے

میری تقدیر کی صورت میرے اشکوں کی طرح
وہ حسیں شخص بہر حال سنورنا چاہے

دِن کی تقدیر کا حاصل بھی وہی ہےمحسنؔ
اِک ستارا جو سرِ شام اُبھرنا چاہے